Ads

Wednesday, 17 January 2018

Why we're more likely to overeat in the evening By Honor Whiteman

Is the fridge your first port of call when you arrive home from work? You deserve a delicious snack after a busy day at the office, right? Snacking does not bode well for our waistlines, though. But according to a new study, you can blame those "hunger hormones."
Researchers have found that in the evening, we experience alterations in the levels of hormones that influence appetite, which may cause us to overeat.
Unsurprisingly, stress and a predisposition to binge eat were also found to increase hunger levels in the evening. But there may be answer to this problem: eat earlier in the day.
The study — conducted by researchers from the Johns Hopkins School of Medicine in Baltimore, MD, and the Mount Sinai Icahn School of Medicine in New York City, NY — was recently published in the International Journal of Obesity.
The research included 32 adults, aged 18–50 years, who were overweight.
Around half of the participants had received a diagnosis of binge eating disorder, which is defined as episodes of uncontrollable eating that often lead to weight gain.
Each subject was asked to participate in two experiments. The first required the subjects to fast for 8 hours before receiving a "liquid meal," consisting of 608 calories, at 9 a.m.
For the second experiment, participants were again asked to fast for 8 hours, but this time, they consumed the liquid meal at 4 p.m.

Testing how time of day affects appetite

Around 130 minutes after each meal, the participants all underwent a stress test. This required the subjects to place one hand in a bucket of cold water for 2 minutes, while their facial expressions were recorded.
Participants were offered a food and drink buffet, which consisted of pizza, cookies, chips, candy, and water, 30 minutes after the stress test began.
The researchers also took blood samples from the subjects, and these were monitored for levels of the "stress hormone" cortisol, as well as the "hunger hormones" ghrelin and peptide YY (PYY).

اخروٹ کھائیں اور صحت مند ہوجائیں

خشک میوے میں شمار کیا جانے والا اخروٹ ہمیشہ سے طبی لحاظ سے فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے اور اسے موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے بھی بہترین سمجھا جاتا ہے۔

اخروٹ میں ایسے پروٹینز، وٹامنز، مرلز اور فیٹس ہوتے ہیں جو جسم میں کولیسٹرول لیول کو کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جس سے دل کے دورے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں : روزانہ 2 اخروٹ امراض قلب سے بچائیں؟

یہاں اس کے مزید فوائد آپ کو اسے آزمانے پر مجبور کردیں گے۔

زیادہ کھانے سے روکے
گزشتہ دنوں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کھانا دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرسکتا ہے جو بے وقت کھانے یا بھوک کی خواہش کو کم کرتے ہیں۔آسان الفاظ میں روزانہ اخروٹ کا استعمال زیادہ کھانے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میوے کو کھانے کے بعد لوگوں کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس ہوتا ہے۔

کینسر اور معدے کے امراض کا خطرہ کم کرے
روزانہ آدھا کپ اخروٹ کھانا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے جس کی وجہ اس کو کھانے سے پرو بائیوٹک بیکٹریا کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ یہ میوہ دل اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ معدے کی صحت مجموعی جسمانی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے، اخروٹ کھانے کی عادت معدے میں مثبت تبدیلیاں لاتی ہے جبکہ یہ دل اور دماغ کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند عادت ہے۔

دماغی افعال بہتر کرے
بچوں کو مچھلی، سویا بین اور اخروٹ لڑکپن میں کھلانا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ لڑکپن میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی کمی بچوں کو ذہنی بے چینی کا شکار بناتی ہے جس سے ان کی یاداشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اوپر درج کی گئی غذائیں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتی ہیں جو بچوں کے بالغ ہوتے دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں۔

مردوں کو بانجھ پن سے بچائے
ڈیل وئیر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ کھانے کی عادت کے نتیجے میں جسم میں ایسے کیمیکلز کی کمی آتی ہے جو کہ خلیات کو نقصان پہنچا کر مردوں میں بانجھ پن کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اخروٹ میں فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو کہ ان خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ اخروٹ کھانا اس مسئلے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جانا جاسکے کہ اخروٹ میں موجود کونسی چیز اس حوالے سے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ذیابیطس سے بچائے
اخروٹ میں فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز کے حوالے سے بھی یہ بہترین ہے تو اگر لوگ روزانہ اس کو کھائیں تو ان کا میٹابولک نظام بہتر حالت میں رہتا ہے۔ اخروٹ کھانے سے خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے، یہ دونوں عناصر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

جلدی صحت کے لیے بہتر اور قبل از وقت سفید بالوں سے تحفظ
اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور یہ خشک میوہ آپ کے بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

پیاز کھانے کے بے شمار فائدے

سلانوالی: زرعی ماہرین اور طبی ماہرین نے بتایاہے کہ پیا ز ایک مفید ادویاتی سبزی ہے جس کے بے شمارفوائد ہیں بالخصوص پیاز نظام انہضام کی اصلاح کرتی ہے، ہیضہ سے موثر طور پر بچاتی ہے۔

دل کی بیماریوں کیلئے پیاز اس لیے مفید ہے کیونکہ یہ خون میں چکنے ماد ے پیدا ہونے نہیں دیتی ،بلغم سے چھٹکار ے اور کھانسی سے نجا ت کیلئے پیاز نہایت مفید ہے۔

پیا ز ایک پیشا ب آوور ادویاتی سبزی ہے ا س سے پیشاب باکثرت سے آ تا ہے اس کا استعمال بواسیر میں کمی لاتا ہے، دانتوں کے درد سے نجا ت کیلئے پیازمفید ہے، برص کے مرض میں پیا ز کو بطورعلاج استعمال کروایاجاتاہے۔

موسم گرما میں پیاز کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے اورلو سے بچاﺅکا موثر ذریعہ ہے، پیاز میں فینول اور فلیونائیڈز ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آنت کے کینسر کیلئے نہایت مفید ہے، ہیضے کے موسم میں اس سے بچاﺅکیلئے پیاز کو سرکہ کے ساتھ استعمال کریں اور شفا پائیں۔ سماء

بالوں کو ہفتے میں کتنی بار دھونا فائدہ مند؟

کیا کبھی آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا ہے کہ آپ کو اپنے بال ہفتے میں کتنی بار دھونے چاہئے؟

تو اس کا جواب ایک امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بالوں کو روزانہ دھونا انہیں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں : وہ غلطیاں جو آپ کو عمر سے بڑا دکھائیں

تحقیق کے مطابق جس طرح ہمارے چہرے پر تیل یا آئل جمتا ہے اسی طرح بالوں میں بھی یہ عمل ہوتا ہے۔

یہ چکنا جز پیدا والا گلیڈ سیبم کہلاتا ہے جو کہ بالوں کو نم رکھنے اور خشک ہونے سے بچاتا ہے۔

اس گلینڈ کی پیداوار کا انصار جینز ور ہارمونز پر ہوتا ہے، نوجوانی میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بال بہت زیادہ آئلی اور چہرے پر کیل مہاسے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مردوں کے بال گرنے کی 7 عام وجوہات

تحقیق میں کہا گیا کہ بالوں کو ہفتے کتنی بار دھونا چاہئے اس کا انحصار ہر ایک کے لیے مختلف ہوتا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ روزانہ انہیں دھونے کی ضرورت نہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ بالوں کا اکثر دھونا ان میں بہتری لانے کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے خاص طور پر مردوں کے لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر بال دھونے سے بالوں سے آئل خارج ہوتا ہے، جلد خشک اور مزید آئل بننے کا عمل تھم جاتا ہے۔

یہ بھی فائدہ مند ہے : بالوں کی خشکی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں؟

انہوں نے مشورہ دیا کہ تین دن میں ایک بار بال دھونا بالوں کی اچھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے یا کم از کم تین دن تک شیمپو بالوں پر لگانے سے گریز کریں

سونف کی چائے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

جسمانی وزن میں کمی
دل کی صحت بہتر بنائے
آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند
کیل مہاسے کم کرے
ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو کہ متعدد امراض کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔

اسے خام شکل میں کھایا جائے یا چائے کی صورت میں، فائدہ ہر بار ہوتا ہے۔

سونف میں موجود آئل کو ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، مگر کیا آپ نے کبھی سونف کی چائے پی ہے؟

مزید پڑھیں : ادرک کے 7 بہترین فوائد

اسے بنانا بہت آسان ہے، بس سونف کو پانی میں ابالیں اور پی لیں۔

یہ چائے وٹامن اے، سی اور ڈی کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

جسمانی وزن میں کمی
چونکہ سونف نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے، اسی لیے یہ غذائیت کو جزو بدن بنانے کا عمل بھی بہتر کردیتی ہے۔ اس طرح نقصان دہ اجزاءجسم سے خارج ہوجاتے ہیں، اسی طرح جسم میں گلوکوز کی سطح بھی متوازن رہتی ہے، یہ بے وقت کھانے کی خواہش کو قابو میں کرتی ہے جبکہ جسم میں اضافی سیال کو بھی خارج کردیتی ہے۔

دل کی صحت بہتر بنائے
جگر صحت مند ہو تو کولیسٹرول کے ٹکڑے زیادہ بہتر طریقے سے ہوتے ہیں، سونف ان غذاﺅں میں سے ایک ہے جو جگر کے افعال کو مناسب طریقے سے مدد کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔

آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند
سونف بینائی کو بہتر کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود وٹامن سی بینائی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شہد کے 9 زبردست فوائد

کیل مہاسے کم کرے
سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتا ہے۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کردیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔

مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں

چھینک روکنے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

کسی الرجی یا کوئی چیز جیسے کیڑا ناک میں چلے جانے پر جسم اس سے فوری نجات کے لیے چھینک کا سہارا لیتا ہے۔

ایسا ہونے پر پسلیوں کے درمیان مسلز کی حرکت اور پردہ شکم حرکت میں آکر ناک میں سے ہر چیز کو خارج کردیتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ ایک خودکار اور انسان کے کنٹرول سے باہر ردعمل ہے جو کہ سانس کی نالی کو کھلی رکھنے کے لیے ہے۔

ایک چھینک بہت طاقتور ہوتی ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ناک کو دبانا یا منہ کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہوا نکل نہ سکے جو پھر باہر کی بجائے جسم کے اندر جاتی ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ برطانوی ڈاکٹروں نے اس وقت کیا جب ایک شخص کے گلے میں اس وقت سوراخ ہوگیا جب اس نے چھینک پر قابو پانے کی کوشش کی۔

طبی جریدے بی ایم جے کیس رپورٹس میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ لیسٹر کے ایک ہسپتال میں ایک صحت مند شخص کو لایا گیا، جو چیزیں نگلنے میں مشکل کی شکایت کررہا تھا جبکہ اس کے ورم زدہ حلق سے عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔

اس 34 سالہ شخص نے بتایا کہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اس نے چھینک کو روکنے کے لیے اپنی ناک کو دبایا اور منہ کو بند کرلیا۔

ہسپتال آنے کے بعد وہ آواز سے محروم ہوگیا اور وہاں ایک ہفتے تک رہا۔

ڈاکٹروں کے مطابق جب چھینک آتی ہے تو ہوا ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہے، اگر اس دباﺅ کو روکا جائے تو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اور اس شخص جیسا انجام ہوسکتا ہے جس نے ایسا کرنے پر ہوا کو جسم میں قید کرلیا۔

اس مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے آواز سنی جو پسلیوں سے آرہی تھی، یہ سینے میں ہوا کا بلبلہ پھنسنے کی علامت تھی۔

انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے پیش نظر اس شخص کو ہسپتال میں داخل کرکے فیڈنگ ٹیوب سے غذا فراہم کی گئی۔

ٹیکساس یونیورسٹی کے سر اور گلے کے سرجن ڈاکٹر زی یانگ جیانگ کے مطابق ہر سال انہیں اس طرح کے ایک یا دو کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک چھینک بھی اتنی طاقت پیدا کرسکتی ہے جو جسم کے اندر اس قسم کا نقصان پہنچا سکتی ہے جو گولی لگنے سے ہوسکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چھینک بھی وائرس اور بیکٹریا کی طرح جسم سے نکلتی ہے، تو اگر آپ اس کو روکنے کی کوشش کریں گے تو وہ جسم کے کسی دوسرے حصے میں جاسکتی ہے، یہ اضافی ہوا اکثر تو انسانی جسم جذب کرلیتا ہے، تاہم کئی بار نقصان بلکہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق خود کو بچانے کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ آس پاس کے ماحول کو دیکھے بغیر چھینک مار دیں، چاہے جتنی بھی بلند کیوں نہ ہو

Saturday, 13 January 2018

بانجھ پن، 15 باتیں جاننا بہت ضروری ہیں

ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے ۔ فوٹو : فائل

اس پر ہمیشہ میرا دل کڑھتا ہے کہ بچہ پیدا کرے عورت، زچگی کا درد سہے عورت!
بچے پیدا کرنے سے بچنا ہے تو فیملی پلاننگ کے لیے گنی پگ بنے عورت!
حمل ٹھہر گیا ،ضائع کروانے کے لیے بھی تکلیف اٹھائے عورت !
ابارشن کروا کر خدا کی بھی مجرم، قانون کی بھی مجرم اور ذہنی عذاب سہے عورت!
بچہ نہیں ہو رہا تو قصور وار کون؟ پھر وہی عورت!

ہند و پاک معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے جوقطعی غلط ہے۔ اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا۔ اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے۔ اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کرلے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموماً قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے۔

ایک مزیدار لطیفہ ’دبئی انفرٹیلیٹی سنڈروم‘ بھی پڑھ لیجئے۔ شوہر شادی کے دس پندرہ روز بعد ملازمت کے لیے بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ بہو سسرال میں اجنبی رشتوں میں دن گزار رہی ہوتی ہے۔ شوہر کو کبھی ویزہ نہیں ملتا تو کبھی ملک کا چکر لگانے کے لیے رقم کا انتظام نہیں اور کبھی نوکری سے رخصت نہیں۔ اس دوران شوہر مرد ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک امتحان سے بچا رہتا ہے یعنی ’’اتنے سال گزر گئے بچہ نہیں ہوا؟‘‘ کا جملہ سننے سے۔ بہو،سسرال اور معاشرہ شادی کے سال گنتے ہیں جبکہ شادی وہی شروع کے دس پندرہ دن رہی جو دعوتوں میں گزر گئے۔ حمل ٹھہرگیا تو عورت بخشی گئی، نہیں ٹھہرا تو ایک ایسے کولہو میں پلوا دی جائے گی جس سے اس کی امنگوں کا تیل نکلے تو نکلے، ایسے میں بچہ کہاں سے آئے!

٭جب بھی ایسی خاتون اپنی ساس کے ساتھ حمل کے لیے دوا لینے آتی ہے تو سب سے پہلے میں ساس کو باکردار، صابرہ بہو ملنے کی مبارک دیتی ہوں۔ پھر شوہر اور بیوی کے ساتھ رہنے کا وقت گنتی ہوں جو عموماً ایک سال کے وقفے سے پندرہ دن یا دو سال کے وقفے کے بعد دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے۔ شادی کا عرصہ برسوں پر محیط ہو تب بھی حمل ٹھہرنے کا ممکنہ وقفہ ان گنے چنے دنوں پر محیط ہوتا ہے جو معاشرے اور سماج سے چرا کر میاں بیوی ساتھ گزار لیتے ہیں۔

حمل کب ٹھہرتاہے؟
٭عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعدگر جاتا/ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔

٭مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کئے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔

٭اسی طرح خاتون کے انڈے خارج ہونے کا دن ہمیشہ سوفیصد درستگی سے بتانا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے اسے بھی احتیاطاً ممکنہ دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد تک سمجھ لیجیے یعنی ان مخصوص 24 گھنٹوں کو مزید 48 گھنٹے کے حفاظتی حصار میں لے آئیے تاکہ حمل کا چانس مس نہ ہو۔ سائنس اس وقفے کو زرخیزی کی کھڑکی یا ’فرٹیلیٹی ونڈو‘ کہتی ہے اور اس کا قطعی وقت بیضے کے اخراج سے پہلے کے 12 سے 36 گھنٹے مانتی ہے۔ اب اس مخصوص وقفے میں حمل کا خواہشمند جوڑا کوئی پکنک یا دعوت قبول نہ کرے یعنی گھر پر رہے اور حمل کی خواہش نہ رکھنے والے زوجین ان مخصوص دنوں میں خاص پرہیز رکھیں۔ مردانہ جراثیم کی زنانہ نظام تولید میں 5 روز کی ممکنہ زندگی کے پیش نظر حمل کے لیے مفید تین روز سے بھی 5 دن کا فاصلہ رکھیں۔ اس طرح کے بچاؤ سے زوجین میں سے ہر دو کا کسی بھی تکلیف دہ اور مضر صحت مانع حمل ادویات اور سرجریز سے بچاؤ ممکن ہے۔

٭میں اپنی مریضہ کو ہمیشہ علاج کے آغاز میں ایک تین لفظی موٹو لکھ کر دیتی ہوں’ صبر، حوصلہ، تعاون‘۔ ہر ماہ جب امید بندھ کر ٹوٹ جائے تو صبر کیجیے، حوصلے سے کام لیتے ہوئے علاج جاری رکھیے اور