Ads

Saturday, 13 January 2018

بانجھ پن، 15 باتیں جاننا بہت ضروری ہیں

ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے ۔ فوٹو : فائل

اس پر ہمیشہ میرا دل کڑھتا ہے کہ بچہ پیدا کرے عورت، زچگی کا درد سہے عورت!
بچے پیدا کرنے سے بچنا ہے تو فیملی پلاننگ کے لیے گنی پگ بنے عورت!
حمل ٹھہر گیا ،ضائع کروانے کے لیے بھی تکلیف اٹھائے عورت !
ابارشن کروا کر خدا کی بھی مجرم، قانون کی بھی مجرم اور ذہنی عذاب سہے عورت!
بچہ نہیں ہو رہا تو قصور وار کون؟ پھر وہی عورت!

ہند و پاک معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے جوقطعی غلط ہے۔ اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا۔ اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے۔ اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کرلے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموماً قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے۔

ایک مزیدار لطیفہ ’دبئی انفرٹیلیٹی سنڈروم‘ بھی پڑھ لیجئے۔ شوہر شادی کے دس پندرہ روز بعد ملازمت کے لیے بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ بہو سسرال میں اجنبی رشتوں میں دن گزار رہی ہوتی ہے۔ شوہر کو کبھی ویزہ نہیں ملتا تو کبھی ملک کا چکر لگانے کے لیے رقم کا انتظام نہیں اور کبھی نوکری سے رخصت نہیں۔ اس دوران شوہر مرد ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک امتحان سے بچا رہتا ہے یعنی ’’اتنے سال گزر گئے بچہ نہیں ہوا؟‘‘ کا جملہ سننے سے۔ بہو،سسرال اور معاشرہ شادی کے سال گنتے ہیں جبکہ شادی وہی شروع کے دس پندرہ دن رہی جو دعوتوں میں گزر گئے۔ حمل ٹھہرگیا تو عورت بخشی گئی، نہیں ٹھہرا تو ایک ایسے کولہو میں پلوا دی جائے گی جس سے اس کی امنگوں کا تیل نکلے تو نکلے، ایسے میں بچہ کہاں سے آئے!

٭جب بھی ایسی خاتون اپنی ساس کے ساتھ حمل کے لیے دوا لینے آتی ہے تو سب سے پہلے میں ساس کو باکردار، صابرہ بہو ملنے کی مبارک دیتی ہوں۔ پھر شوہر اور بیوی کے ساتھ رہنے کا وقت گنتی ہوں جو عموماً ایک سال کے وقفے سے پندرہ دن یا دو سال کے وقفے کے بعد دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے۔ شادی کا عرصہ برسوں پر محیط ہو تب بھی حمل ٹھہرنے کا ممکنہ وقفہ ان گنے چنے دنوں پر محیط ہوتا ہے جو معاشرے اور سماج سے چرا کر میاں بیوی ساتھ گزار لیتے ہیں۔

حمل کب ٹھہرتاہے؟
٭عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعدگر جاتا/ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔

٭مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کئے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔

٭اسی طرح خاتون کے انڈے خارج ہونے کا دن ہمیشہ سوفیصد درستگی سے بتانا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے اسے بھی احتیاطاً ممکنہ دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد تک سمجھ لیجیے یعنی ان مخصوص 24 گھنٹوں کو مزید 48 گھنٹے کے حفاظتی حصار میں لے آئیے تاکہ حمل کا چانس مس نہ ہو۔ سائنس اس وقفے کو زرخیزی کی کھڑکی یا ’فرٹیلیٹی ونڈو‘ کہتی ہے اور اس کا قطعی وقت بیضے کے اخراج سے پہلے کے 12 سے 36 گھنٹے مانتی ہے۔ اب اس مخصوص وقفے میں حمل کا خواہشمند جوڑا کوئی پکنک یا دعوت قبول نہ کرے یعنی گھر پر رہے اور حمل کی خواہش نہ رکھنے والے زوجین ان مخصوص دنوں میں خاص پرہیز رکھیں۔ مردانہ جراثیم کی زنانہ نظام تولید میں 5 روز کی ممکنہ زندگی کے پیش نظر حمل کے لیے مفید تین روز سے بھی 5 دن کا فاصلہ رکھیں۔ اس طرح کے بچاؤ سے زوجین میں سے ہر دو کا کسی بھی تکلیف دہ اور مضر صحت مانع حمل ادویات اور سرجریز سے بچاؤ ممکن ہے۔

٭میں اپنی مریضہ کو ہمیشہ علاج کے آغاز میں ایک تین لفظی موٹو لکھ کر دیتی ہوں’ صبر، حوصلہ، تعاون‘۔ ہر ماہ جب امید بندھ کر ٹوٹ جائے تو صبر کیجیے، حوصلے سے کام لیتے ہوئے علاج جاری رکھیے اور

No comments:

Post a Comment