سلانوالی: زرعی ماہرین اور طبی ماہرین نے بتایاہے کہ پیا ز ایک مفید ادویاتی سبزی ہے جس کے بے شمارفوائد ہیں بالخصوص پیاز نظام انہضام کی اصلاح کرتی ہے، ہیضہ سے موثر طور پر بچاتی ہے۔
دل کی بیماریوں کیلئے پیاز اس لیے مفید ہے کیونکہ یہ خون میں چکنے ماد ے پیدا ہونے نہیں دیتی ،بلغم سے چھٹکار ے اور کھانسی سے نجا ت کیلئے پیاز نہایت مفید ہے۔
پیا ز ایک پیشا ب آوور ادویاتی سبزی ہے ا س سے پیشاب باکثرت سے آ تا ہے اس کا استعمال بواسیر میں کمی لاتا ہے، دانتوں کے درد سے نجا ت کیلئے پیازمفید ہے، برص کے مرض میں پیا ز کو بطورعلاج استعمال کروایاجاتاہے۔
موسم گرما میں پیاز کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے اورلو سے بچاﺅکا موثر ذریعہ ہے، پیاز میں فینول اور فلیونائیڈز ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آنت کے کینسر کیلئے نہایت مفید ہے، ہیضے کے موسم میں اس سے بچاﺅکیلئے پیاز کو سرکہ کے ساتھ استعمال کریں اور شفا پائیں۔ سماء
Ads
Wednesday, 17 January 2018
بالوں کو ہفتے میں کتنی بار دھونا فائدہ مند؟
کیا کبھی آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا ہے کہ آپ کو اپنے بال ہفتے میں کتنی بار دھونے چاہئے؟
تو اس کا جواب ایک امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بالوں کو روزانہ دھونا انہیں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں : وہ غلطیاں جو آپ کو عمر سے بڑا دکھائیں
تحقیق کے مطابق جس طرح ہمارے چہرے پر تیل یا آئل جمتا ہے اسی طرح بالوں میں بھی یہ عمل ہوتا ہے۔
یہ چکنا جز پیدا والا گلیڈ سیبم کہلاتا ہے جو کہ بالوں کو نم رکھنے اور خشک ہونے سے بچاتا ہے۔
اس گلینڈ کی پیداوار کا انصار جینز ور ہارمونز پر ہوتا ہے، نوجوانی میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بال بہت زیادہ آئلی اور چہرے پر کیل مہاسے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مردوں کے بال گرنے کی 7 عام وجوہات
تحقیق میں کہا گیا کہ بالوں کو ہفتے کتنی بار دھونا چاہئے اس کا انحصار ہر ایک کے لیے مختلف ہوتا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ روزانہ انہیں دھونے کی ضرورت نہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ بالوں کا اکثر دھونا ان میں بہتری لانے کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے خاص طور پر مردوں کے لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکثر بال دھونے سے بالوں سے آئل خارج ہوتا ہے، جلد خشک اور مزید آئل بننے کا عمل تھم جاتا ہے۔
یہ بھی فائدہ مند ہے : بالوں کی خشکی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں؟
انہوں نے مشورہ دیا کہ تین دن میں ایک بار بال دھونا بالوں کی اچھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے یا کم از کم تین دن تک شیمپو بالوں پر لگانے سے گریز کریں
تو اس کا جواب ایک امریکی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بالوں کو روزانہ دھونا انہیں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں : وہ غلطیاں جو آپ کو عمر سے بڑا دکھائیں
تحقیق کے مطابق جس طرح ہمارے چہرے پر تیل یا آئل جمتا ہے اسی طرح بالوں میں بھی یہ عمل ہوتا ہے۔
یہ چکنا جز پیدا والا گلیڈ سیبم کہلاتا ہے جو کہ بالوں کو نم رکھنے اور خشک ہونے سے بچاتا ہے۔
اس گلینڈ کی پیداوار کا انصار جینز ور ہارمونز پر ہوتا ہے، نوجوانی میں اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بال بہت زیادہ آئلی اور چہرے پر کیل مہاسے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مردوں کے بال گرنے کی 7 عام وجوہات
تحقیق میں کہا گیا کہ بالوں کو ہفتے کتنی بار دھونا چاہئے اس کا انحصار ہر ایک کے لیے مختلف ہوتا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ روزانہ انہیں دھونے کی ضرورت نہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ بالوں کا اکثر دھونا ان میں بہتری لانے کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے خاص طور پر مردوں کے لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکثر بال دھونے سے بالوں سے آئل خارج ہوتا ہے، جلد خشک اور مزید آئل بننے کا عمل تھم جاتا ہے۔
یہ بھی فائدہ مند ہے : بالوں کی خشکی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں؟
انہوں نے مشورہ دیا کہ تین دن میں ایک بار بال دھونا بالوں کی اچھی صحت کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے یا کم از کم تین دن تک شیمپو بالوں پر لگانے سے گریز کریں
سونف کی چائے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟
جسمانی وزن میں کمی
دل کی صحت بہتر بنائے
آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند
کیل مہاسے کم کرے
ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو کہ متعدد امراض کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔
اسے خام شکل میں کھایا جائے یا چائے کی صورت میں، فائدہ ہر بار ہوتا ہے۔
سونف میں موجود آئل کو ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، مگر کیا آپ نے کبھی سونف کی چائے پی ہے؟
مزید پڑھیں : ادرک کے 7 بہترین فوائد
اسے بنانا بہت آسان ہے، بس سونف کو پانی میں ابالیں اور پی لیں۔
یہ چائے وٹامن اے، سی اور ڈی کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔
جسمانی وزن میں کمی
چونکہ سونف نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے، اسی لیے یہ غذائیت کو جزو بدن بنانے کا عمل بھی بہتر کردیتی ہے۔ اس طرح نقصان دہ اجزاءجسم سے خارج ہوجاتے ہیں، اسی طرح جسم میں گلوکوز کی سطح بھی متوازن رہتی ہے، یہ بے وقت کھانے کی خواہش کو قابو میں کرتی ہے جبکہ جسم میں اضافی سیال کو بھی خارج کردیتی ہے۔
دل کی صحت بہتر بنائے
جگر صحت مند ہو تو کولیسٹرول کے ٹکڑے زیادہ بہتر طریقے سے ہوتے ہیں، سونف ان غذاﺅں میں سے ایک ہے جو جگر کے افعال کو مناسب طریقے سے مدد کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔
آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند
سونف بینائی کو بہتر کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود وٹامن سی بینائی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہد کے 9 زبردست فوائد
کیل مہاسے کم کرے
سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتا ہے۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کردیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔
مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں
دل کی صحت بہتر بنائے
آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند
کیل مہاسے کم کرے
ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو کہ متعدد امراض کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔
اسے خام شکل میں کھایا جائے یا چائے کی صورت میں، فائدہ ہر بار ہوتا ہے۔
سونف میں موجود آئل کو ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، مگر کیا آپ نے کبھی سونف کی چائے پی ہے؟
مزید پڑھیں : ادرک کے 7 بہترین فوائد
اسے بنانا بہت آسان ہے، بس سونف کو پانی میں ابالیں اور پی لیں۔
یہ چائے وٹامن اے، سی اور ڈی کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔
جسمانی وزن میں کمی
چونکہ سونف نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے، اسی لیے یہ غذائیت کو جزو بدن بنانے کا عمل بھی بہتر کردیتی ہے۔ اس طرح نقصان دہ اجزاءجسم سے خارج ہوجاتے ہیں، اسی طرح جسم میں گلوکوز کی سطح بھی متوازن رہتی ہے، یہ بے وقت کھانے کی خواہش کو قابو میں کرتی ہے جبکہ جسم میں اضافی سیال کو بھی خارج کردیتی ہے۔
دل کی صحت بہتر بنائے
جگر صحت مند ہو تو کولیسٹرول کے ٹکڑے زیادہ بہتر طریقے سے ہوتے ہیں، سونف ان غذاﺅں میں سے ایک ہے جو جگر کے افعال کو مناسب طریقے سے مدد کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔
آنکھ کی صحت کے لیے فائدہ مند
سونف بینائی کو بہتر کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود وٹامن سی بینائی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شہد کے 9 زبردست فوائد
کیل مہاسے کم کرے
سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتا ہے۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کردیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
ذیابیطس کے خلاف مزاحمت
سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔
مسوڑوں کے لیے بہترین
سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں
چھینک روکنے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟
کسی الرجی یا کوئی چیز جیسے کیڑا ناک میں چلے جانے پر جسم اس سے فوری نجات کے لیے چھینک کا سہارا لیتا ہے۔
ایسا ہونے پر پسلیوں کے درمیان مسلز کی حرکت اور پردہ شکم حرکت میں آکر ناک میں سے ہر چیز کو خارج کردیتے ہیں۔
بنیادی طور پر یہ ایک خودکار اور انسان کے کنٹرول سے باہر ردعمل ہے جو کہ سانس کی نالی کو کھلی رکھنے کے لیے ہے۔
ایک چھینک بہت طاقتور ہوتی ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ناک کو دبانا یا منہ کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہوا نکل نہ سکے جو پھر باہر کی بجائے جسم کے اندر جاتی ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
یہ انتباہ برطانوی ڈاکٹروں نے اس وقت کیا جب ایک شخص کے گلے میں اس وقت سوراخ ہوگیا جب اس نے چھینک پر قابو پانے کی کوشش کی۔
طبی جریدے بی ایم جے کیس رپورٹس میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ لیسٹر کے ایک ہسپتال میں ایک صحت مند شخص کو لایا گیا، جو چیزیں نگلنے میں مشکل کی شکایت کررہا تھا جبکہ اس کے ورم زدہ حلق سے عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔
اس 34 سالہ شخص نے بتایا کہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اس نے چھینک کو روکنے کے لیے اپنی ناک کو دبایا اور منہ کو بند کرلیا۔
ہسپتال آنے کے بعد وہ آواز سے محروم ہوگیا اور وہاں ایک ہفتے تک رہا۔
ڈاکٹروں کے مطابق جب چھینک آتی ہے تو ہوا ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہے، اگر اس دباﺅ کو روکا جائے تو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اور اس شخص جیسا انجام ہوسکتا ہے جس نے ایسا کرنے پر ہوا کو جسم میں قید کرلیا۔
اس مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے آواز سنی جو پسلیوں سے آرہی تھی، یہ سینے میں ہوا کا بلبلہ پھنسنے کی علامت تھی۔
انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے پیش نظر اس شخص کو ہسپتال میں داخل کرکے فیڈنگ ٹیوب سے غذا فراہم کی گئی۔
ٹیکساس یونیورسٹی کے سر اور گلے کے سرجن ڈاکٹر زی یانگ جیانگ کے مطابق ہر سال انہیں اس طرح کے ایک یا دو کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک چھینک بھی اتنی طاقت پیدا کرسکتی ہے جو جسم کے اندر اس قسم کا نقصان پہنچا سکتی ہے جو گولی لگنے سے ہوسکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چھینک بھی وائرس اور بیکٹریا کی طرح جسم سے نکلتی ہے، تو اگر آپ اس کو روکنے کی کوشش کریں گے تو وہ جسم کے کسی دوسرے حصے میں جاسکتی ہے، یہ اضافی ہوا اکثر تو انسانی جسم جذب کرلیتا ہے، تاہم کئی بار نقصان بلکہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق خود کو بچانے کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ آس پاس کے ماحول کو دیکھے بغیر چھینک مار دیں، چاہے جتنی بھی بلند کیوں نہ ہو
ایسا ہونے پر پسلیوں کے درمیان مسلز کی حرکت اور پردہ شکم حرکت میں آکر ناک میں سے ہر چیز کو خارج کردیتے ہیں۔
بنیادی طور پر یہ ایک خودکار اور انسان کے کنٹرول سے باہر ردعمل ہے جو کہ سانس کی نالی کو کھلی رکھنے کے لیے ہے۔
ایک چھینک بہت طاقتور ہوتی ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ناک کو دبانا یا منہ کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہوا نکل نہ سکے جو پھر باہر کی بجائے جسم کے اندر جاتی ہے جو کہ موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
یہ انتباہ برطانوی ڈاکٹروں نے اس وقت کیا جب ایک شخص کے گلے میں اس وقت سوراخ ہوگیا جب اس نے چھینک پر قابو پانے کی کوشش کی۔
طبی جریدے بی ایم جے کیس رپورٹس میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ لیسٹر کے ایک ہسپتال میں ایک صحت مند شخص کو لایا گیا، جو چیزیں نگلنے میں مشکل کی شکایت کررہا تھا جبکہ اس کے ورم زدہ حلق سے عجیب آوازیں نکل رہی تھیں۔
اس 34 سالہ شخص نے بتایا کہ یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اس نے چھینک کو روکنے کے لیے اپنی ناک کو دبایا اور منہ کو بند کرلیا۔
ہسپتال آنے کے بعد وہ آواز سے محروم ہوگیا اور وہاں ایک ہفتے تک رہا۔
ڈاکٹروں کے مطابق جب چھینک آتی ہے تو ہوا ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خارج ہوتی ہے، اگر اس دباﺅ کو روکا جائے تو اس سے بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اور اس شخص جیسا انجام ہوسکتا ہے جس نے ایسا کرنے پر ہوا کو جسم میں قید کرلیا۔
اس مریض کے معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے آواز سنی جو پسلیوں سے آرہی تھی، یہ سینے میں ہوا کا بلبلہ پھنسنے کی علامت تھی۔
انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے پیش نظر اس شخص کو ہسپتال میں داخل کرکے فیڈنگ ٹیوب سے غذا فراہم کی گئی۔
ٹیکساس یونیورسٹی کے سر اور گلے کے سرجن ڈاکٹر زی یانگ جیانگ کے مطابق ہر سال انہیں اس طرح کے ایک یا دو کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک چھینک بھی اتنی طاقت پیدا کرسکتی ہے جو جسم کے اندر اس قسم کا نقصان پہنچا سکتی ہے جو گولی لگنے سے ہوسکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چھینک بھی وائرس اور بیکٹریا کی طرح جسم سے نکلتی ہے، تو اگر آپ اس کو روکنے کی کوشش کریں گے تو وہ جسم کے کسی دوسرے حصے میں جاسکتی ہے، یہ اضافی ہوا اکثر تو انسانی جسم جذب کرلیتا ہے، تاہم کئی بار نقصان بلکہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق خود کو بچانے کا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ آس پاس کے ماحول کو دیکھے بغیر چھینک مار دیں، چاہے جتنی بھی بلند کیوں نہ ہو
Saturday, 13 January 2018
بانجھ پن، 15 باتیں جاننا بہت ضروری ہیں
ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے ۔ فوٹو : فائل
اس پر ہمیشہ میرا دل کڑھتا ہے کہ بچہ پیدا کرے عورت، زچگی کا درد سہے عورت!
بچے پیدا کرنے سے بچنا ہے تو فیملی پلاننگ کے لیے گنی پگ بنے عورت!
حمل ٹھہر گیا ،ضائع کروانے کے لیے بھی تکلیف اٹھائے عورت !
ابارشن کروا کر خدا کی بھی مجرم، قانون کی بھی مجرم اور ذہنی عذاب سہے عورت!
بچہ نہیں ہو رہا تو قصور وار کون؟ پھر وہی عورت!
ہند و پاک معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے جوقطعی غلط ہے۔ اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا۔ اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے۔ اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کرلے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموماً قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے۔
ایک مزیدار لطیفہ ’دبئی انفرٹیلیٹی سنڈروم‘ بھی پڑھ لیجئے۔ شوہر شادی کے دس پندرہ روز بعد ملازمت کے لیے بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ بہو سسرال میں اجنبی رشتوں میں دن گزار رہی ہوتی ہے۔ شوہر کو کبھی ویزہ نہیں ملتا تو کبھی ملک کا چکر لگانے کے لیے رقم کا انتظام نہیں اور کبھی نوکری سے رخصت نہیں۔ اس دوران شوہر مرد ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک امتحان سے بچا رہتا ہے یعنی ’’اتنے سال گزر گئے بچہ نہیں ہوا؟‘‘ کا جملہ سننے سے۔ بہو،سسرال اور معاشرہ شادی کے سال گنتے ہیں جبکہ شادی وہی شروع کے دس پندرہ دن رہی جو دعوتوں میں گزر گئے۔ حمل ٹھہرگیا تو عورت بخشی گئی، نہیں ٹھہرا تو ایک ایسے کولہو میں پلوا دی جائے گی جس سے اس کی امنگوں کا تیل نکلے تو نکلے، ایسے میں بچہ کہاں سے آئے!
٭جب بھی ایسی خاتون اپنی ساس کے ساتھ حمل کے لیے دوا لینے آتی ہے تو سب سے پہلے میں ساس کو باکردار، صابرہ بہو ملنے کی مبارک دیتی ہوں۔ پھر شوہر اور بیوی کے ساتھ رہنے کا وقت گنتی ہوں جو عموماً ایک سال کے وقفے سے پندرہ دن یا دو سال کے وقفے کے بعد دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے۔ شادی کا عرصہ برسوں پر محیط ہو تب بھی حمل ٹھہرنے کا ممکنہ وقفہ ان گنے چنے دنوں پر محیط ہوتا ہے جو معاشرے اور سماج سے چرا کر میاں بیوی ساتھ گزار لیتے ہیں۔
حمل کب ٹھہرتاہے؟
٭عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعدگر جاتا/ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
٭مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کئے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔
٭اسی طرح خاتون کے انڈے خارج ہونے کا دن ہمیشہ سوفیصد درستگی سے بتانا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے اسے بھی احتیاطاً ممکنہ دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد تک سمجھ لیجیے یعنی ان مخصوص 24 گھنٹوں کو مزید 48 گھنٹے کے حفاظتی حصار میں لے آئیے تاکہ حمل کا چانس مس نہ ہو۔ سائنس اس وقفے کو زرخیزی کی کھڑکی یا ’فرٹیلیٹی ونڈو‘ کہتی ہے اور اس کا قطعی وقت بیضے کے اخراج سے پہلے کے 12 سے 36 گھنٹے مانتی ہے۔ اب اس مخصوص وقفے میں حمل کا خواہشمند جوڑا کوئی پکنک یا دعوت قبول نہ کرے یعنی گھر پر رہے اور حمل کی خواہش نہ رکھنے والے زوجین ان مخصوص دنوں میں خاص پرہیز رکھیں۔ مردانہ جراثیم کی زنانہ نظام تولید میں 5 روز کی ممکنہ زندگی کے پیش نظر حمل کے لیے مفید تین روز سے بھی 5 دن کا فاصلہ رکھیں۔ اس طرح کے بچاؤ سے زوجین میں سے ہر دو کا کسی بھی تکلیف دہ اور مضر صحت مانع حمل ادویات اور سرجریز سے بچاؤ ممکن ہے۔
٭میں اپنی مریضہ کو ہمیشہ علاج کے آغاز میں ایک تین لفظی موٹو لکھ کر دیتی ہوں’ صبر، حوصلہ، تعاون‘۔ ہر ماہ جب امید بندھ کر ٹوٹ جائے تو صبر کیجیے، حوصلے سے کام لیتے ہوئے علاج جاری رکھیے اور
اس پر ہمیشہ میرا دل کڑھتا ہے کہ بچہ پیدا کرے عورت، زچگی کا درد سہے عورت!
بچے پیدا کرنے سے بچنا ہے تو فیملی پلاننگ کے لیے گنی پگ بنے عورت!
حمل ٹھہر گیا ،ضائع کروانے کے لیے بھی تکلیف اٹھائے عورت !
ابارشن کروا کر خدا کی بھی مجرم، قانون کی بھی مجرم اور ذہنی عذاب سہے عورت!
بچہ نہیں ہو رہا تو قصور وار کون؟ پھر وہی عورت!
ہند و پاک معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لیے مخصوص کردیا گیا ہے جوقطعی غلط ہے۔ اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کر رہا۔ اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے۔ اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کرلے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموماً قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے۔
ایک مزیدار لطیفہ ’دبئی انفرٹیلیٹی سنڈروم‘ بھی پڑھ لیجئے۔ شوہر شادی کے دس پندرہ روز بعد ملازمت کے لیے بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ بہو سسرال میں اجنبی رشتوں میں دن گزار رہی ہوتی ہے۔ شوہر کو کبھی ویزہ نہیں ملتا تو کبھی ملک کا چکر لگانے کے لیے رقم کا انتظام نہیں اور کبھی نوکری سے رخصت نہیں۔ اس دوران شوہر مرد ہونے کی وجہ سے کم از کم ایک امتحان سے بچا رہتا ہے یعنی ’’اتنے سال گزر گئے بچہ نہیں ہوا؟‘‘ کا جملہ سننے سے۔ بہو،سسرال اور معاشرہ شادی کے سال گنتے ہیں جبکہ شادی وہی شروع کے دس پندرہ دن رہی جو دعوتوں میں گزر گئے۔ حمل ٹھہرگیا تو عورت بخشی گئی، نہیں ٹھہرا تو ایک ایسے کولہو میں پلوا دی جائے گی جس سے اس کی امنگوں کا تیل نکلے تو نکلے، ایسے میں بچہ کہاں سے آئے!
٭جب بھی ایسی خاتون اپنی ساس کے ساتھ حمل کے لیے دوا لینے آتی ہے تو سب سے پہلے میں ساس کو باکردار، صابرہ بہو ملنے کی مبارک دیتی ہوں۔ پھر شوہر اور بیوی کے ساتھ رہنے کا وقت گنتی ہوں جو عموماً ایک سال کے وقفے سے پندرہ دن یا دو سال کے وقفے کے بعد دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے۔ شادی کا عرصہ برسوں پر محیط ہو تب بھی حمل ٹھہرنے کا ممکنہ وقفہ ان گنے چنے دنوں پر محیط ہوتا ہے جو معاشرے اور سماج سے چرا کر میاں بیوی ساتھ گزار لیتے ہیں۔
حمل کب ٹھہرتاہے؟
٭عورت کے تولیدی نظام کا سیٹ اپ ایسا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کے درمیانی28 سے30 روز میں سے کسی ایک دن انڈہ خارج ہوتا ہے۔ یہ دن عموماً اگلی ممکنہ تاریخ سے ٹھیک چودہ دن پہلے ہوتا ہے۔ یہ انڈہ بارہ سے چوبیس گھنٹے کے لیے نظام تولید میں زندہ رہتا ہے جس کے بعدگر جاتا/ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے ان چوبیس گھنٹے میں زوجین کے مابین دوری قائم رہے تو باقی تمام ماہ میں حمل ہونے کا امکان تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہر ماہ میں ایک خاص دن کے چوبیس گھنٹے یعنی ’صرف ایک مکمل دن‘ جو حمل کے لیے موزوں ہے اسے ذہن میں رکھیں تو عورت کے حساب سے ایک سال میں صرف بارہ دن حمل کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
٭مرد کے تولیدی جراثیم زنانہ نظام تولید میں چند منٹ سے لے کر پانچ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں، یعنی رحم میں جرثومے کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ روز ہے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا کہ زیادہ تر حمل انڈے کے اخراج سے ایک سے دو روز پہلے کئے گئے ملاپ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل چند حمل ایسے بھی تھے جو انڈے کے اخراج سے پانچ روز پہلے کے ملاپ کے نتیجے میں وقع پذیر ہوئے۔ جرثومے کی پانچ روزہ زندگی میں ان جراثیم نے اندام نہانی، رحم کی لمبی گردن، رحم اور فیلوپئین ٹیوبز سے انڈے دانی اور انڈے سے ملاپ کے بعد ٹیوبز کے رستے واپس رحم تک کا سفر بھی طے کرنا ہوتا ہے۔
٭اسی طرح خاتون کے انڈے خارج ہونے کا دن ہمیشہ سوفیصد درستگی سے بتانا ممکن نہیں ہوتا، اس لئے اسے بھی احتیاطاً ممکنہ دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد تک سمجھ لیجیے یعنی ان مخصوص 24 گھنٹوں کو مزید 48 گھنٹے کے حفاظتی حصار میں لے آئیے تاکہ حمل کا چانس مس نہ ہو۔ سائنس اس وقفے کو زرخیزی کی کھڑکی یا ’فرٹیلیٹی ونڈو‘ کہتی ہے اور اس کا قطعی وقت بیضے کے اخراج سے پہلے کے 12 سے 36 گھنٹے مانتی ہے۔ اب اس مخصوص وقفے میں حمل کا خواہشمند جوڑا کوئی پکنک یا دعوت قبول نہ کرے یعنی گھر پر رہے اور حمل کی خواہش نہ رکھنے والے زوجین ان مخصوص دنوں میں خاص پرہیز رکھیں۔ مردانہ جراثیم کی زنانہ نظام تولید میں 5 روز کی ممکنہ زندگی کے پیش نظر حمل کے لیے مفید تین روز سے بھی 5 دن کا فاصلہ رکھیں۔ اس طرح کے بچاؤ سے زوجین میں سے ہر دو کا کسی بھی تکلیف دہ اور مضر صحت مانع حمل ادویات اور سرجریز سے بچاؤ ممکن ہے۔
٭میں اپنی مریضہ کو ہمیشہ علاج کے آغاز میں ایک تین لفظی موٹو لکھ کر دیتی ہوں’ صبر، حوصلہ، تعاون‘۔ ہر ماہ جب امید بندھ کر ٹوٹ جائے تو صبر کیجیے، حوصلے سے کام لیتے ہوئے علاج جاری رکھیے اور
Friday, 12 January 2018
گردے اور مثانے کی تکلیف کیلئے آسان ترین علاج
گردوں کے مختلف امراض میں سے ایک پتھری بن جانا ہے جو کافی عام ہے اور دنیا بھر میں ہر 11 میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میں گردوں کی پتھری کا سامنا ہوتا ہے اور اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہیں تو 50 فیصد امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کو ایک بار پھر اس عارضے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
گردوں میں پتھری ایک تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کا علاج بھی آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ دوبارہ بھی بن سکتی ہے۔
گردوں میں پتھری کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے کہ پانی کم پینا، خاندان میں اس کے مریضوں کی موجودگی، مخصوص غذائیں خاص طور پر زیادہ نمک اور کیلشیئم والے کھانے، موٹاپا، ذیابیطس، پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ۔
گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔
عام طور پر اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوتا، درد کش ادویات اور بہت زیادہ پانی پینا معمولی پتھری کو نکانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے تاہم اگر وہ پیشاب کی نالی میں پھنس جائے یا پیچیدگیوں کا باعث بنے تو پھر سرجری کروانا پڑتی ہے۔
تاہم اس سے بچاﺅ کے لیے اگر لوگ غذائی عادات کا خیال رکھیں تو کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔
اس کی علامات کیا ہوتی ہے ؟
درحقیقت آغاز میں تو اس کی علامات سامنے نہیں آتیں مگر گردوں میں حرکت کرنے یا پیشاب کی نالی میں جانے کے بعد یہ علامات سامنے آتی ہیں۔
پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب بہت شدید درد۔
ایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا ہو محسوس ہو۔
ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو۔
پیشاب کرتے ہوئے تکلیف ہونا۔
گلابی، سرخ یا براﺅن پیشاب۔
بدبو دار پیشاب۔
بار بار پیشاب کا آنا۔
عام معمول سے ہٹ کر پیشاب کا آنا۔
بخار اور سردی لگنا۔
پیشاب کی مقدار کم ہو جانا۔
ڈاکٹر کو کب دکھانا چاہئے؟
اگر تو اوپر دی گئی علامات میں سے کوئی نظر آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے تاہم درج ذیل میں دی جانے والی علامات سامنے آنے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
اتنا شدید درد ہونا جس کے باعث ساکت بیٹھنا یا کسی پوزیشن پر لیٹنا نا ممکن ہو جائے۔
ایسا درد جس کے ساتھ سر چکرائے اور الٹی ہو۔
بخار اور سردی کے ساتھ گردوں کے مقام پر درد ہونا۔
پیشاب میں خون آنا۔
پیشاب کرنے میں مشکل کا سامنا۔
دنیا بھر میں ہر 11 میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میں گردوں کی پتھری کا سامنا ہوتا ہے اور اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہیں تو 50 فیصد امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کو ایک بار پھر اس عارضے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
گردے کی پتھری کے لئے یہ ٹوٹکا مفید ہے۔
آدھا گلاس پانی اور ہرے پودینے کی ایک تازہ گڈی کو ڈنڈی سمیت گرائینڈر کر لیں اور چھان کر صبح نہار منہ پی لیں۔ 20 دن میں پتھری سے چھٹکارا مل جائے گا۔
روزانہ تازہ بنائیں۔
روزانہ تازہ بنائیں۔
اگر مچھلی کا کانٹا حلق میں پھنس جائے تو کیا کریں؟
اس چیز سے بدتر کیا ہوسکتا ہے کہ آپ مچھلی کے لذیذ پکوان سے لطف اندوز ہورہے ہوں مگر اچانک اس کا کانٹا حلق میں پھنس جائے۔
اگر آپ کو یہ تجربہ ہوچکا ہو تو جانتے ہوں گے کہ یہ کتنا تکلیف دہ احساس ہوتا ہے، اگر نہیں ہوا تو جان لیں کہ اس سے بدترین تجربہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
ویسے مچھلی کھانا صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے مگر کانٹوں کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
تاہم اگر کبھی ایسا تجربہ ہو تو آپ کو کیا کرنا چاہیئے؟
مزید پڑھیں: مکھیاں صحت کے لیے انتہائی خطرناک
ویسے اگر کبھی کوئی کانٹا پھنس جائے تو ضروری نہیں کہ وہ تکلیف دہ ہو مگر بے آرام اور چبھن کا احساس ہر وقت دلاتا رہتا ہے۔
عام طور پر یہ جان لیوا ثابت نہیں ہوتا مگر آپ کو ایسا لگ سکتا ہے کہ سانس رک گئی ہے یا بھاری ہوگئی ہے تاہم ایسا تجربہ ہو تو یہ آسان کام کرنا اس پریشانی میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کھانسنا
ویسے ذہن میں سب سے پہلے ایسی صورتحال میں کھانسنے کا ہی خیال آتا ہے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیئے، کھانسی اس طرح کی صورتحال میں جسم کا پہلا حفاظتی حصار ہوتی ہے، اکثر کچھ منٹ تک کھانسنا اتنی ہوا اخراج کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے جو کانٹے کو نکال پھینکتی ہے۔ اگر یہ کام نہ کرے تو نیچے موجود طریقہ آزمائیں۔
زیتون کا تیل نگل لیں
اگر کھانسی کام نہ کرے تو زیتون کا تیل ایک اچھا حل ثابت ہوسکتا ہے، یہ تیل فوری طور پر تھوک میں تحلیل نہیں ہوتالہذا یہ مچھلی کے کانٹے کو حلق کے نیچے گزارنے کے لیے اچھا آپشن ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ کانٹے کو چکنا کرکے پھسلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
مارش میلو آزمائیں
متعدد افراد اس کے فائدہ مند ہونے کی گواہی دیتے ہیں، بڑے سائز کا مارش میلو لیں اور منہ میں ڈال کر تھوڑا چبائیں، اتنا پگلھلنے اور چپکنے لگے تو نگل لیں۔ یہ چپکنے والی میٹھی سوغات اپنے ساتھ مچھلی کے کانٹے کو بھی معدے میں لے جاتی ہے۔
سرکہ نوش کریں
کانٹے کو ہلانے کے لیے کچھ قطرے سرکے کو پی کر بھی دیکھ سکتے ہیں، پانی میں سرکے کے قطرے مکس کرکے پینا مچھلی کے پھنسے ہوئے کانٹے کی تکلیف سے نجات دلانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح کے کانٹے کافی پتلے اور نازک ہوتے ہیں اور سرکے میں موجود تیزابیت انہیں گھلانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے، تاہم اس طریقہ کار میں تکلیف سے نجات کے لیے وقت ذرا زیادہ درکار ہوتا ہے۔
ڈبل روٹی بھی فائدہ مند
خشک ڈبل روٹی کو گرم پانی یا دودھ میں معمولی سا ڈبوئیں اور پھر گیند کی شکل بنا کر نگل لیں۔ ایسا ہونے پر مچھلی کے کانٹے کو بھی اپنے ساتھ لے جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر کے پاس جائیں
اگر تمام طریقہ کار آزما لیے اور آرام نہیں ملا تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔ عام طور پر ڈاکٹر اس کانٹے کو بہت جلد اور بغیر تکلیف پہنچائے نکال دیتے ہیں، بہت سنگین کیسز میں ہی معمولی سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔ ویسے کانٹا پھنسنے پر خون زیادہ منہ سے نکلنے لگے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے
Subscribe to:
Posts (Atom)







