Ads

Thursday, 11 January 2018

کینسر کا خطرہ بڑھانے والی غذائیں کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بہت زیادہ استعمال سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ،

کینسر اب لاعلاج مرض نہیں مگر اس کا علاج انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے جبکہ ایک مخصوص اسٹیج پر کوئی دوا کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بہت زیادہ استعمال  سے کینسر کا  خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
زیادہ میٹھا کھانے کی عادت
اگر تو چینی زیادہ کھانے کے نتیجے میں ذیابیطس جیسے مرض کا خیال پریشان نہیں کرتا تو یہ جان لیں کہ یہ کینسر کی رسولیوں کا خطرہ بھی چار گنا بڑھا دیتا ہے۔ بیلجیئم کی کیتھولائیک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق زیادہ میٹھا کھانا کینسر زدہ خلیات کی تعداد کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ عام خلیات آکسیجن کو جسمانی توانائی کے لیے گلوکوز میں بدلتے ہیں مگر کینسر زدہ خلیات چینی سے حاصل کرتے ہیں اور رسولی کی نشوونما کو انتہائی تیز کردیتے ہیں۔آسان الفاظ میں چینی کا بہت زیادہ استعمال کینسر زدہ خلیات کو کینسر کے مرض کی شکل دے دیتا ہے۔
جنک فوڈ کا شوق
اگر تو آپ کو فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس جاکر کھانا جیسے برگر یا پیزا وغیرہ پسند ہے تو یہ عادت کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔ ایریزونا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں پہلی بار بتایا گیا کہ یہ عادت کینسر جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ موٹاپے یا عام وزن کے حامل دونوں افراد کے لیے بڑھا دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق برگر، پیزا اور چکن نگٹس وغیرہ کینسر کا خطرہ عام وزن کے حامل افراد میں 10 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔تحقیق کے دوران خواتین پر توجہ دی گئی تھی مگر محققین کے مطابق اس غذا کا اثر دونوں جنسوں پر یکساں انداز سے ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف وزن کو کنٹرول رکھنا موٹاپے سے جڑے کینسر کی اقسام سے تحفظ دینے میں کچھ خاص مددگار ثابت نہیں ہوتا۔
پراسیس گوشت
کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کے قتلوں کا زیادہ استعمال امراض قلب سے موت کا خطرہ 24 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس عادت کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ 32 فیصد جبکہ کینسر جیسے مرض کا امکان 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ روزانہ سوگرام گوشت کھانے کو معمول بنالینا مثانے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ بالترتیب 19 اور 17 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں جبکہ بریسٹ کینسر کا امکان 11 فیصد بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس کی وجہ گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت میں پکانا ہوسکتا ہے جو ایک کیمیکلheterocyclic amines کی پروڈکشن کا باعث بنتا ہے جو کہ انسانوں میں مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
مصنوعی مٹھاس
ایک تحقیق کے مطابق مصنوعی مٹھاس کا استعمال بھی کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، محققین کے مطابق مصنوعی مٹھاس میں موجود ممکنہ زہریلے اثرات انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور اس حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے۔
الکحل
نیشنل کینسر انسٹیٹوٹ کی تحقیق کے مطابق الکحل کا استعمال سر، گلے، غذائی نالی، جگر، چھاتی اور آنتوں کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق الکحل کا استعمال دیگر جسمانی اعضاءجیسے لبلبے معدے اور مثانے وغیرہ کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی شواہد ناکافی ہیں۔
ٹرانس فیٹ
ٹرانس فیٹ سیال تیل کو ٹھوس شکل دینے پر بنتے ہیں جو کہ غذاؤں کے ذائقے اور استعمال کی مدت کو بڑھاتے ہیں۔ مارجرین، سیریلز، ٹافیوں، بیکری کی مصنوعات، بسکٹوں، چپس اور تلی ہوئی غذاؤں سمیت متعدد پکوانوں میں یہ پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان کا زیادہ استعمال موٹاپے کا خطرہ تو بڑھاتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے

سرکی خشکی ختم کرنے کابہترین نسخہ ،جس کی قیمت نہ ہونے کے برابر،استعمال بھی انتہائی آسان

نسان بالوں کی خوبصورتی اور چمک کے لیے نت نئے شیمپو او ہیئر کنڈیشنرز استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بالوں کا قدرتی حسن واپس نہیں آتا لیکن کچھ ایسے گھریلو نسخے بھی ہیں جو نہ صرف خشکی کو ختم کردیتے ہیں بلکہ بالوں کی قدرتی چمک، ریشمی پن اور کشش کو دوبارہ بحال کردیتے ہیں۔
سرکے، زیتون اور دہی سے علاج: ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکا بالوں کے لیے قدرتی کلیزنر کا کام کرتا ہے جسے مہینے میں ایک بار استعمال کیا جائے۔ شہر کے نمکین پانی کی وجہ سے بالوں میں سختی اور خشکی پیدا ہوجاتی ہے جس کے لیے زیتون کے تیل کا ایک چمچہ لے کر اسے دہی کے 2 چمچوں کے ساتھ ملا کر استعمال کریں۔ اس نسخے سے بالوں کا پی ایچ متوازن ہوگا اور بالوں کی قدرتی چمک واپس آجائے گی۔
سیب اور لیموں کا استعمال: بالوں کی خشکی کو ختم کرنے اور چمک کے لیے لیموں اور سیب کا جوس انہتائی مفید ہے جس کے لیے ایک چمچہ سیب کا جوس لے کر اس میں 2 چمچے لیموں کا رس ملا لیں اور شیمپو سے بال دھونے کے بعد اسے لگالیں اور ایک منٹ بعد سر دھو لیں۔ ماہرین کے مطابق سیب کے جوس کی تیزابیت بالوں کی بیرونی سطح کو لچکدار اور چمکدار بناتا ہے۔

انجیر کے فوائد

ریاض (نیوزڈیسک ) انجیر کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے، یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا ہے۔ انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطا کرتا ہے۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے۔انجیر ایک چھوٹا سا خشک میوہ ہے، جس کے بے شمار فوائد اور متعدد خواص ہیں، جن میں سے چند اہم ترین کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔نظام انہضام کی بہتری: انجیر کے تین ٹکڑے 5گرام ریشوں (فائبر) پر مشتمل ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا 20فیصد پورا کردیتا ہے۔ انجیر قدرتی طور پر قبض کشا خشک میوہ ہے، جو آپ کو قبض سے محفوظ رکھنے کے علاوہ نظام انہضام کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔وزن میں کمی: ریشوں سے بھرپور ہونے کے علاوہ انجیر میں کچھ خاص قسم کی کیلوریز بھی پائی جاتی ہیں۔ لہذا وہ لوگ جو اپنا وزن گھٹانا چاہتے ہیں انجیر کا ضرور استعمال کریں،کیوں کہ ایک انجیر میں صرف 47 کیلوریز ہوتی ہیں۔بلڈ پریشر: خون کے دباﺅ کا شکار افراد کے جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی سطح متناسب نہیں رہتی اور انجیر کا استعمال اس متناسب کو بحال کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور انجیر بلڈپریشر کو کم کر سکتی ہے۔دل کے امراض: انجیر میں شامل اینٹی آکسائیڈینٹ کسی بھی دیگر پھل کی نسبت زیادہ معیاری ہوتے ہیں اور یہ مرکبات ایسے مادوں کو خارج کر دیتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسائیڈینٹ کینسر سے بچاﺅ کا بھی موجب ہیں۔ہڈیوں کی مضبوطی: کیلشیم سے بھرپور دیگر غذاﺅںکے ساتھ انجیر کا استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک خشک انجیر کیلشیم کی روزانہ کی ضرورت کا 3فیصد بنتی ہے۔ذیابطیس: ذیابطیس کا شکار افراد اکثر اپنی خوراک کے بارے میں کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں لیکن انجیر کا استعمال آپ کے لئے نہایت سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ انجیر میں قدرتی شوگر ہوتی ہے، جو مصنوعی شوگر کے استعمال کو کم کرکے فائدہ پہنچاتی ہے۔خون کی کمی: ایک انجیر انسانی جسم کو روزانہ درکار آئرن کی 2 فیصد ضرورت کو پورا کرتی ہے اور آئرن کی متناسب مقدار نہ ملنے سے جسم خون کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔نظام تولید: قدیم علوم کے مطابق یونانی قوت باہ کو بڑھانے کے لئے انجیر کا استعمال کیا کرتے تھے اور آج جدید میڈیکل سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ انجیر تولیدی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے، کیوں کہ یہ زنک، میگنیشیم اور میگنیز جیسے منرلز سے بھرپور ہوتی ہے۔

ایک امرود کے لاتعداد فوائد

امرودوں کا موسم اب شروع ہوچکا ہے، جن پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر کھانا تقریباً ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے۔

مگر یہ صرف منہ کا ذائقہ ہی دوبالا نہیں کرتا بلکہ اس میں ایسے اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں جو اسے صحت کے لیے بہترین پھل بناتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور یہ پھل کتنے فوائد کا حامل ہے، وہ درج ذیل ہے۔

کینسر کا خطرہ کم کرے
امرود میں موجود وٹامن سی، لائیکو پین اور دیگر اجزاء ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرتے ہیں جو جسم میں نقصان دہ اجزاء کی سطح کم کرتے ہیں، جس سے کینسر زدہ خلیات کی نشوونما نہیں ہوتی۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہتر
فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے امرود ذیابیطس کو بڑھنے سے روکتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرتا ہے۔

دل کو صحت مند بنائے
امرود کھانے سے جسم میں نمک یا سوڈیم اور پوٹاشیئم کے توازن میں بہتری آتی ہے جس سے بلڈ پریشر کنٹرول میں آتا ہے، یہ پھل صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول اور دیگر عناصر کی سطح بھی کم کرتا ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتے ہیں۔

قبض کشا
اس میں غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور ایک امرود ہی فائبر کی روزانہ کے لیے ضروری مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو فراہم کردیتا ہے جو کہ نظام ہضم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے، امرود کے بیج بھی قبض کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

بینائی بہتر کرے
امرود میں وٹامن اے پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین ہے، یہ پھل نہ صرف عمر بڑھنے کے ساتھ بینائی میں آنے والی تنزلی سے تحفظ دیتا ہے بلکہ اسے بہتر بھی کرتا ہے۔ یہ موتیے کے مرض کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لیے بہتر
اس پھل میں فولک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو حاملہ خواتین کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

دانتوں کے درد کو کم کرے
امرود میں ورم کش خصوصیات بھی ہوتی ہیں اور جراثیم کش ہونے کی وجہ سے بھی یہ انفیکشن کے خلاف جدوجہد کرتا ہے جبکہ جراثیموں کو مارتا ہے، اس لیے اسے کھانا دانت کے درد کے لیے اچھا گھریلو ٹوٹکا ثابت ہوتا ہے۔

تناﺅ کم کرے
امرود میں موجود میگنیشم، مسلز اور اعصاب کو پرسکون کرتا ہے، لہذا دن بھر کے کاموں کے بعد اسے کھانے سے مسلز کو سکون ملتا ہے، ذہنی تناﺅ کم ہوتا ہے جبکہ جسمانی توانائی بڑھتی ہے۔

دماغی پھل
اس پھل میں وٹامن بی تھری اور بی سکس بھی موجود ہے جو کہ دماغ کی جانب خون کی فراہمی کو بہتر کرتے ہیں اور ذہنی افعال کو تحریک دینے کے ساتھ اعصاب کو بھی سکون پہنچاتے ہیں۔

موٹاپے سے تحفظ
اگر آپ جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو امرود کھانا شروع کردیں، جس سے آپ کو اپنی غذا میں پروٹینز، وٹامنز اور فائبر میں کمی نہیں لانا پڑے گی جو کہ اس پھل میں موجود ہے جبکہ یہ میٹابولزم کو بھی بہتر کرتا ہے اور ہاں اسے کھانے سے جلد پیٹ بھرنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

جھریوں سے بچائے
وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے کیروٹین اور لائیکوپین کی وجہ سے امرود جلد کو جھریوں سے بچاتا ہے، یعنی ایک امرود روزانہ جھریوں کو کافی عرصے تک دور رکھتا ہے۔

Friday, 5 January 2018

جسم کے وہ بال جو آپ کو نہیں چاہئیں

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین اکثر کیل مہاسوں، چھائیوں، جلد کی خشکی اور اضافی بالوں جیسے مسائل سے دوچار رہتی ہیں اور طرح طرح کی بیوٹی پراڈکٹس اور لوشن وغیرہ استعمال کرتی ہیں لیکن اب ایک ماہر نے جڑی بوٹیوں کے ذریعے ان عارضوں کا بہترین علاج بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق کیٹی پانڈے نامی اس جڑی بوٹیوں کی ماہر کا کہنا ہے کہ ”کیل مہاسے، چھائیاں، خشکی اور اضافی بالوں جیسے مسائل جسم میں ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے درپیش آتے ہیں جن کا علاج جڑی بوٹیوں سے کیا جا سکتا ہے۔ خواتین کے جسم پر اضافی بال بھی ہارمونز کا توازن بگڑنے کی علامت ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ چہرے پر ہوتے ہیں تاہم یہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی ہو سکتے ہیں۔ خواتین میں اس مسئلے کی وجہ ان میں مردانہ ہارمون ’ٹیسٹاسٹرون‘ کی زیادتی بھی ہو سکتی ہے۔ اس ہارمون کی خواتین کے جسم میں ضرورت تو ہوتی ہے لیکن بہت کم مقدار میں۔ اس مسئلے سے نجات کے لیے ملٹھی، ریڈ کلوور (Red clover)کی چائے یا سبز چائے مفید ہو سکتی ہے۔ مزیدسبز پھول گوبھی(Broccoli)، پھول گوبھی اور بند گوبھی کا استعمال بھی جسم میں ٹیسٹاسٹرون کی مقدار کم کرنے کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔“کیٹی پانڈے کا مزید کہنا تھا کہ ”خواتین کی جلد کا پتلا اور عمر رسیدہ ہونا ان کے جنسی ہارمون ایسٹروجن کی وجہ سے ہوتا ہے۔یہ ہارمون خواتین کی جنسی صحت اور قوت افزائش کے ساتھ ساتھ ان کی جلد کی نمی کو متوازن رکھنے اور نئی جلد بنانے والے پروٹین ’کولجین‘ کی پیداوار کا باعث بھی ہوتا ہے۔اسی ہارمون کی وجہ سے خواتین کی جلد تروتازہ اور نوجوان رہتی ہے۔ جب اس کی مقدار کم ہو جائے تو جلد پتلی اور خشک ہونی شروع ہو جاتی ہے اور چہرے پر چھائیاں پڑ جاتی ہیں۔اس مسئلے سے نجات کے لیے خواتین کو کیوی، سرخ مرچ اور پھول گوبھی جیسی سبزیاں اور پھل استعمال کرنے چاہئیں جن میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔ شت مولی، ہلدی اور برہمی بوٹی (Gotu kola)کا استعمال بھی کولجین نامی پروٹین کی مقدار پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ ان کے استعمال سے بھی خواتین اپنی جلد کو صحت مند اور تروتازہ رکھ سکتی ہیں